14 C
New York
Friday, May 15, 2026

Buy now

Header Banner

نائیجیریا میں ورلڈ پیس موومنٹ افریقہ ٹور 2026 کو غیر معمولی پذیرائی

نائیجیریا میں ورلڈ پیس موومنٹ افریقہ ٹور 2026 کو غیر معمولی پذیرائی

ابوجا، نائیجیریا: ورلڈ پیس موومنٹ کے افریقہ ٹور 2026 نے نائیجیریا بھر میں نمایاں توجہ حاصل کر لی ہے، جہاں مذہبی رہنماؤں، سماجی شخصیات، طلبہ اور قومی میڈیا اداروں نے امن، مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کے پیغام کو سراہا ہے۔

یہ مہم معروف اسلامی اسکالر شیخ احمد دباغ کی قیادت میں جاری ہے، جنہوں نے مختلف اجتماعات، لیکچرز اور میڈیا بریفنگز میں خطاب کرتے ہوئے معاشرے میں امن، انصاف، رحم دلی اور اخلاقی قیادت کی ضرورت پر زور دیا۔

نائیجیریا کے متعدد بڑے میڈیا اداروں، جن میں Vanguard، The Nation، Daily Nigerian، The Guardian، NAN اور Radio Nigeria شامل ہیں، نے اس دورے کی خصوصی کوریج کی۔ مختلف رپورٹس میں ورلڈ پیس موومنٹ کے اس پیغام کو اجاگر کیا گیا کہ پائیدار امن صرف مذہبی یا سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ دیانت داری، عوامی خدمت اور مشترکہ انسانی اقدار سے قائم ہو سکتا ہے۔

اپنے ایک خطاب میں شیخ احمد دباغ نے کہا کہ مذہب یا سیاست کی بنیاد پر مقابلہ آرائی اور نفرت قومی اتحاد کو کمزور کرتی ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ رحم، انصاف، برداشت اور سخاوت جیسی اقدار کو فروغ دیں تاکہ ایک پُرامن معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

“اگر ہم حقیقی امن اور برکت چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کے لیے بھی امن اور خیر خواہی کا ذریعہ بننا ہوگا۔”

ورلڈ پیس موومنٹ نے اپنے پیغام میں اس بات پر بھی زور دیا کہ مذہب کو تشدد، نفرت یا فساد کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ مقررین نے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو تلقین کی کہ وہ اپنے مذاہب کی اصل تعلیمات یعنی محبت، برداشت اور انسانیت کو اپنائیں۔

ابوجا میں منعقدہ مختلف پروگرامز، سیمینارز اور عوامی اجتماعات میں بڑی تعداد میں طلبہ، نوجوانوں اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس اقدام کو بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی استحکام کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔

ورلڈ پیس موومنٹ کے مطابق افریقہ ٹور 2026 کا مقصد پورے براعظم میں امن، سماجی ہم آہنگی اور اخلاقی قیادت کو فروغ دینا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ مہم روحانی اصلاح، تعلیم، انسان دوستی اور اجتماعی ذمہ داری کے اصولوں پر مبنی ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس مہم کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے، جہاں ہزاروں افراد نے شیخ احمد دباغ کے خطابات، تصاویر اور میڈیا رپورٹس کو شیئر کرتے ہوئے امن کے پیغام کو آگے بڑھایا۔

مبصرین کے مطابق یہ مہم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کئی افریقی ممالک شدت پسندی، سیاسی کشیدگی اور سماجی تقسیم جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں مکالمے، برداشت اور امن کے فروغ پر مبنی یہ کوشش عوامی سطح پر امید کی ایک نئی کرن کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

ورلڈ پیس موومنٹ نے اعلان کیا ہے کہ نائیجیریا کے بعد افریقہ کے دیگر ممالک میں بھی اسی نوعیت کی امن مہمات، لیکچرز اور عوامی پروگرامز منعقد کیے جائیں گے تاکہ مختلف معاشروں کے درمیان ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دیا جا سکے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

0FansLike
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe
- Advertisement -spot_img

Latest Articles