5.6 C
New York
Wednesday, January 14, 2026

Buy now

Header Banner

خاموش چیخیں: ذہنی دباؤ اور ہمارا معاشرہ

ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں ذہنی دباؤ پر بات کرنا اب بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں آئے دن ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جو ہمیں چونکا دیتے ہیں، مگر ہم انہیں چند دن کی خبروں کے بعد بھول جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ واقعات نہیں، وہ خاموش چیخیں ہیں جو ان واقعات سے پہلے مسلسل سنائی دیتی رہتی ہیں—اور ہم نظرانداز کرتے رہتے ہیں۔

چند برسوں میں ہم نے دیکھا کہ تعلیمی دباؤ کے باعث بعض طلبہ امتحانی نتائج کے بعد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے۔ کچھ واقعات میں نوجوان زندگی سے مایوس ہو گئے، اور بعد میں والدین یہ کہتے نظر آئے کہ “ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ اتنا پریشان ہے۔” سوال یہ ہے کہ اگر اندازہ نہیں تھا، تو ہم پوچھ کیوں نہیں رہے تھے؟

اسی طرح حالیہ برسوں میں شہروں میں کام کرنے والے نوجوانوں میں ذہنی دباؤ کے واقعات بڑھے ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی اور معاشرتی توقعات نے نوجوان نسل کو ایک ایسی دوڑ میں دھکیل دیا ہے جہاں رکنا ناکامی سمجھا جاتا ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں کئی ایسے کیسز رپورٹ ہوئے جہاں بظاہر کامیاب نظر آنے والے افراد اندر سے ٹوٹ چکے تھے—مگر ان کی خاموشی کو کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔

خواتین کے حوالے سے بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ گھریلو دباؤ، شادی، اولاد اور معاشرتی معیار پر پورا اترنے کی مسلسل کوشش نے بہت سی خواتین کو ذہنی تھکن میں مبتلا کر دیا ہے۔ بعض واقعات میں بعد ازاں معلوم ہوا کہ متاثرہ خاتون عرصے سے ذہنی دباؤ میں تھی، مگر “لوگ کیا کہیں گے” کے خوف سے اس نے کبھی بات نہیں کی۔

سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر ہونے والی آن لائن تضحیک، کردار کشی اور نفسیاتی دباؤ کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ کچھ نوجوان صرف اس لیے ٹوٹ گئے کیونکہ انہیں مسلسل تنقید اور موازنہ کا سامنا تھا۔ ہم اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر الفاظ پھینکتے رہے، اور کسی کی خاموشی کو کمزوری سمجھتے رہے۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم تب جاگتے ہیں جب کوئی افسوسناک واقعہ ہو جاتا ہے۔ پھر ٹی وی ٹاک شوز، سوشل میڈیا پوسٹس اور تعزیتی بیانات آتے ہیں۔ مگر کچھ عرصے بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے—سوائے اس خاندان کے، جو عمر بھر کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔

ذہنی دباؤ نہ تو کمزور ایمان کی علامت ہے، نہ ہی توجہ حاصل کرنے کا بہانہ۔ یہ ایک حقیقت ہے، ایک بیماری ہے، جس کا علاج ممکن ہے—بشرطیکہ ہم مان لیں کہ مسئلہ موجود ہے۔ پاکستان میں ذہنی صحت پر بات کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، چاہے وہ تعلیمی ادارے ہوں، دفاتر ہوں یا ہمارے اپنے گھر۔

ہمیں سیکھنا ہوگا کہ ہر مسکراہٹ خوشی کی دلیل نہیں ہوتی، اور ہر خاموش شخص مطمئن نہیں ہوتا۔ کبھی کسی سے صرف یہ کہہ دینا کہ “میں سننے کے لیے موجود ہوں” شاید کسی کی زندگی کا رخ بدل دے۔

آخر میں یہی کہنا کافی ہے کہ
پاکستان میں بہت سی زندگیاں حادثات سے نہیں، خاموشی سے ختم ہو رہی ہیں۔
اگر ہم نے آج یہ خاموش چیخیں نہ سنیں، تو کل شاید افسوس کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔


Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

0FansLike
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe
- Advertisement -spot_img

Latest Articles