5.9 C
New York
Wednesday, January 14, 2026

Buy now

Header Banner

پاکستان میں گیس سلنڈر لیکج: سانحات جو چیخ چیخ کر خبردار کر رہے ہیں

پاکستان میں گیس سلنڈر لیکج اور دھماکوں کے واقعات اب محض اتفاقیہ حادثات نہیں رہے بلکہ یہ ایک مستقل اور سنگین قومی مسئلہ بن چکے ہیں۔ قدرتی گیس کی قلت، لوڈشیڈنگ اور مہنگے متبادل ذرائع نے عوام کو ایل پی جی سلنڈرز کے استعمال پر مجبور ضرور کیا، مگر بدقسمتی سے حفاظتی اقدامات، حکومتی نگرانی اور عوامی شعور اس رفتار سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکا۔

ملک کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے واقعات اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور شادی ہالز میں گیس سلنڈر لیکج کے باعث دھماکے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ کہیں ایک گھر اجڑ جاتا ہے تو کہیں پورا خاندان ملبے تلے دب جاتا ہے۔

حالیہ دنوں اسلام آباد میں پیش آنے والا واقعہ دل دہلا دینے والا تھا، جہاں ایک رہائشی گھر میں گیس سلنڈر لیکج کے بعد ہونے والے دھماکے نے خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا۔ بتایا گیا کہ شادی کی تقریب کے بعد گیس بند نہ ہونے اور لیکج کے باعث گھر میں گیس بھر گئی، اور جونہی آگ یا کسی برقی سوئچ کا استعمال ہوا، زوردار دھماکہ ہو گیا۔ اس سانحے میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد جان سے گئے اور قریبی مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ چند لمحوں کی غفلت کس طرح نسلوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

اسی طرح لاہور میں بھی حال ہی میں گیس لیکج کے باعث گھریلو سطح پر دھماکے اور آگ لگنے کے واقعات سامنے آئے، جہاں بچے اور خواتین شدید زخمی ہوئے۔ اس سے پہلے بھی لاہور کے مختلف علاقوں، جن میں رہائشی اور تجارتی مقامات شامل ہیں، گیس سلنڈر پھٹنے سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہر حادثے کی نوعیت ایک جیسی ہوتی ہے: غیر معیاری سلنڈر، ناقص ریگولیٹر، بند کمروں میں سلنڈر کا استعمال اور گیس کی بو کو نظرانداز کرنا۔

ان تمام سانحات میں ایک قدرِ مشترک ہے: لاپرواہی اور کمزور نظام۔ غیر قانونی گیس ایجنسیاں کھلے عام غیر معیاری اور زائد المیعاد سلنڈر فروخت کر رہی ہیں۔ حکومتی ادارے قوانین تو بناتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا۔ عوام بھی سستی کے لالچ اور لاعلمی کے باعث اپنی جان خطرے میں ڈالنے سے نہیں ہچکچاتے۔

ہر بڑے حادثے کے بعد چند دن شور مچتا ہے، میڈیا پر بحث ہوتی ہے، بیانات دیے جاتے ہیں، مگر پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اگلا دھماکہ ہمیں دوبارہ چونکا دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہم لاشیں گنتے رہیں گے؟

اب وقت آ چکا ہے کہ گیس سلنڈر لیکج سے ہونے والے حادثات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ غیر معیاری سلنڈرز اور غیر قانونی فلنگ پوائنٹس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے، جبکہ میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے عوام کو گیس کے محفوظ استعمال سے متعلق آگاہی دی جائے۔

یہ حقیقت ہمیں تسلیم کرنی ہوگی کہ گیس سلنڈر خود قاتل نہیں، بلکہ ہماری غفلت، بے حسی اور ناقص نظام اسے قاتل بناتے ہیں۔ اگر ہم نے اسلام آباد اور لاہور جیسے حالیہ سانحات سے سبق نہ سیکھا تو یہ خاموش خطرہ آنے والے دنوں میں مزید گھروں کو اجاڑتا رہے گا۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

0FansLike
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe
- Advertisement -spot_img

Latest Articles