6.5 C
New York
Thursday, January 15, 2026

Buy now

Header Banner

مریم نواز کے فیصلے عام آدمی کے لیے امید کی کرن


مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ نے عام پاکستانی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایک طرف بیماری ہے تو دوسری جانب راشن کا مسئلہ، اور اگر گھر میں شادی ہو تو اخراجات ایک الگ آزمائش بن جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب عوام مشکلات میں گھرے ہوں، ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سہارا بنے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اسی سوچ کے تحت ایسے فیصلے کیے ہیں جن کا براہِ راست فائدہ عام آدمی کو پہنچ رہا ہے۔
راشن کارڈ: بھوک کے خلاف عملی اقدام
مریم نواز کی جانب سے متعارف کروایا گیا راشن کارڈ پروگرام ان خاندانوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جو روزمرہ کی خوراک پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ اس پروگرام کے تحت مستحق افراد کو ماہانہ بنیادوں پر راشن یا اس کی مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ کوئی بھی خاندان بھوک کا شکار نہ ہو۔
راشن کارڈ اسکیم خاص طور پر مزدور طبقے، یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں اور کم آمدنی والے گھرانوں کو مدِنظر رکھ کر بنائی گئی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف گھریلو اخراجات میں کمی آئی ہے بلکہ عوام کو یہ احساس بھی ملا ہے کہ حکومت ان کے مسائل سے باخبر ہے۔
:بیمار عوام کے لیے ریلیف
مہنگے علاج اور ادویات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ مریم نواز کی حکومت نے صحت کے شعبے میں بھی عوامی ریلیف کو ترجیح دی ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری، مفت ادویات کی فراہمی اور علاج میں آسانی جیسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت بیماری کو مزید غربت کا سبب نہیں بننے دینا چاہتی۔
بیمار شخص کے لیے سب سے بڑی پریشانی علاج کے اخراجات ہوتے ہیں، اور جب حکومت اس بوجھ کو بانٹتی ہے تو یہ حقیقی عوامی خدمت بن جاتی ہے۔
:شادی کے اخراجات` اور ’دھی رانی پروگرام
پاکستان میں بیٹی کی شادی ایک خوشی کے ساتھ ساتھ مالی دباؤ بھی بن جاتی ہے، خاص طور پر غریب گھرانوں کے لیے۔ اسی مسئلے کو مدِنظر رکھتے ہوئے مریم نواز نے ’دھی رانی پروگرام‘ جیسے فلاحی منصوبے شروع کیے۔
اس پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو شادی کے لیے مالی معاونت، گھریلو سامان اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد صرف شادی کروانا نہیں بلکہ غریب والدین کے وقار کو بحال رکھنا بھی ہے، تاکہ وہ معاشرتی دباؤ کے بغیر اپنی بیٹی کی شادی کر سکیں۔
:سیاست نہیں خدمت
مریم نواز کے ان اقدامات کو محض سیاسی نعرہ کہنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ ان کا اثر براہِ راست عوام کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ راشن کارڈ ہو، علاج کی سہولت ہو یا شادی میں مدد—یہ سب ایسے فیصلے ہیں جو روزمرہ مسائل کا عملی حل پیش کرتے ہیں۔
عوامی حلقوں میں ان اقدامات کو سراہا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ انہیں ایک مثبت حکومتی سوچ قرار دے رہے ہیں۔ ایسے پروگرام اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت ہو تو ریاست واقعی ماں کا کردار ادا کر سکتی ہے۔
:نتیجہ
آج کے دور میں جب عام آدمی ہر طرف سے مسائل میں گھرا ہوا ہے، مریم نواز کے یہ فلاحی اقدامات امید کی ایک روشن کرن ہیں۔ بیمار ہو یا راشن کا مسئلہ، یا پھر شادی کی ذمہ داری—حکومت کا عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ہی اصل حکمرانی کی پہچان ہے۔
اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ ایک مضبوط، باوقار اور خوشحال معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جا سکے گی۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

0FansLike
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe
- Advertisement -spot_img

Latest Articles