5.2 C
New York
Thursday, January 15, 2026

Buy now

Header Banner

مسئلہ کشمیر کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ

اقوام متحدہ نے ایک قرارداد کے ذریعے جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا
اسلام آباد- رہنما پاکستان مسلم لیگ اسلام آباد روبینہ بٹ نے کہا ہے کہ 5 جنوری 1949 مسئلہ کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دن ہے، جب اقوام متحدہ نے ایک قرارداد کے ذریعے جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا۔ اس قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا کہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام کو آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے، جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں منعقد کی جائے گی۔ یہ قرارداد اس وقت منظور کی گئی جب برصغیر کی تقسیم کے بعد جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ بن چکا تھا اور بھارت و پاکستان کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی تھی ۔ اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کومحض ایک سرحدی تنازع کے بجائے عوامی حق کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے یہ ذمہ داری لی کہ کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں دونوں ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ رائے شماری کے انعقاد کیلئے سازگار حالات پیدا کریں، فوجی کشیدگی میں کمی لائیں اور کشمیری عوام کو خوف و دبا سے آزاد ماحول فراہم کریں۔ تاہم عملی طور پر یہ قرارداد آج تک نافذ نہ ہو سکی۔ بھارت کی جانب سے مختلف حیلوں اور تاخیری حربوں کے باعث استصواب رائے کا عمل مسلسل مسخر ہوتا رہا۔ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں رپورٹ ہوتی رہی ہیں، جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری گرفتاریاں، اظہار رائے پر پابندیاں اور اجتماعی سزائیں شامل ہیں۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا ان مظالم کی نشاندہی کر چکی ہیں ،مگر کشمیری عوام آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال 5 جنوری کو کشمیری عوام اور آزادی پسند حلقے یوم حق خودارادیت کے طور پر مناتے ہیں، تا کہ عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کو اس کے وعدے یاد دلائے جاسکیں۔ یہ دن اس حقیقت کی علامت ہے کہ مسئلہ کشمیر نہ تو فراموش ہوا ہے اور نہ ہی ختم، بلکہ آج بھی ایک زندہ انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ جب تک اقوام متحدہ اپنی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد یقینی نہیں بناتی اور کشمیری عوام کو ان کا جائز حق نہیں دیا جاتا ، خطے میں پائیدار امن کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔ 5 جنوری کا دن عالمی ضمیر کیلئے ایک سوال ہے کہ
آخر انصاف کب ہوگا ؟

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

0FansLike
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe
- Advertisement -spot_img

Latest Articles