مانچسٹر (خصوصی رپورٹ) — برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں پاکستانی قونصل خانے کے سامنے پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے ایک احتجاجی دھرنا دیا گیا، جس میں شرکاء نے موجودہ سیاسی صورتحال اور حالیہ فیصلوں کے خلاف شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔
دھرنے میں شامل مظاہرین کا کہنا تھا کہ اب فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ عوامی آواز کے ذریعے ہونے چاہئیں۔ شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر عوامی حقِ حکمرانی، جمہوریت اور انصاف سے متعلق نعرے درج تھے۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ وہ ایسے فیصلوں کو قبول نہیں کریں گے جو عوامی رائے کے بغیر مسلط کیے جائیں۔
احتجاج میں خواتین، نوجوانوں اور بزرگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جبکہ شرکاء نے عمران خان کی حمایت اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات بھی کیے۔ مظاہرین نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی ملکی معاملات پر خاموش نہیں رہیں گے اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
یہ دھرنا پرامن رہا اور کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں احتجاجی دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بیرونِ ملک ہونے والے ایسے احتجاج پاکستان کی داخلی سیاست پر اثرانداز ہو سکتے ہیں اور عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔


